آج کی ماں بقلم حرا امجد بنت اخلاق اسلامی مضمون
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بقلم: حرا بنت اخلاق زوجۂ امجد
1- کثرتِ آپریشن
زچگی کے وقت دردوں سے بچنے کے لیے آپریشن کو ترجیح دے دینا، اور بچے کو قدرتی طریقے سے دنیا میں نہ آنے دینا جس سے اس کے لیے مسائل بنتے ہیں۔ اس کی قوتِ مدافعت کمزور ہوتی ہے، قدرتی طریقے سے پیدا ہونے والے بچے کی قوت مدافعت بیماری، الرجی یا انفیکشن سے حفاظت آپریشن کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
2- فارمولا دودھ دینا
اب جب وہ دنیا میں آ گیا تو اسے اپنا دودھ دینے کی بجائے فارمولا دینا۔ اس کے لیے بہانہ کوئی بھی بنانا مگر وجہ صرف اپنی آسانی!
ماں کا دودھ بچے کو صحت مند بناتا ہے، بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے، پُرسکون رکھتا ہے اور کسی بھی دوسری غذا کے مقابلے میں مکمل غذا ہوتا ہے۔
دودھ کم ہے یا میرا دودھ پورا نہیں ہوتا، یوں کہہ کر فارمولا شروع کروانے والی خواتین بعد میں صرف فارمولا ہی پلا پاتی ہیں۔ جس رب نے ننھی جان کو پیدا کیا ہے کیا وہ نہیں جانتا اس کے لیے کتنا رزق اتارنا ہے؟
ہاں کچھ کیسز میں فارمولا دیتے ہیں بچوں کو مگر وہ کسی انتہائی ضروری وجہ سے، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق۔
لیکن آج کل بچے زیادہ تر فارمولا پر پل رہے ہیں کیونکہ آج کل کی عورتیں صرف آسانیاں ڈھونڈتی ہیں۔
3- بچے کو چوسنی دینا
بچہ رو رہا ہے، بجائے اس کے رونے کی وجہ جاننے کی کوشش کرنے کے اس کے منہ میں چوسنی دے دی کہ کسی طرح چپ رہے۔ آج جو بو رہی ہو کل کاٹنا پڑے گا۔
4- پیمپر بدلنے میں سستی
بچے نے صبح کا پیمپر کیا ہوا ہے، رات ہو گئی ہے مگر چونکہ بچے نے ابھی تک موشن نہیں کیا اس لیے پیمپر نہیں بدلنا۔
اگر پیمپر اتار بھی دیا ہے تو بغیر دھوئے دوسرا لگا دینا، حالانکہ بچہ بھی ایک انسان ہے اور اللہ کی امانت ہے۔
پھر شکوہ کہ بچے کے ریشز ختم نہیں ہوتے، حالانکہ صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا۔
Jihad bil Qalam — جہاد بالقلم
0 تبصرے