آسان زبان میں بات کرنا: قرآن و حدیث کی روشنی میں
ڈاکٹر نایاب ہاشمی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کی زبان ہے۔ لیکن زبان وہی کامیاب ہوتی ہے جو دوسروں کے دل میں اُتر جائے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ بات کو آسان، سادہ اور سمجھنے کے قابل بنایا جائے، نہ کہ مشکل الفاظ میں الجھا دیا جائے۔ ذیل میں قرآن و حدیث سے اس کی واضح رہنمائی ملتی ہے،
قرآن مجید سے رہنمائی
1. سورہ ابراہیم (14:4)
اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان میں، تاکہ وہ اُن کے لیے (بات) واضح کر سکے۔
تشریح: اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ اس کے انداز کو سمجھ سکیں۔ مقصد صرف پیغام دینا نہیں، بلکہ سمجھانا ہے۔
2. سورہ مریم (19:97)
تو ہم نے قرآن کو تمہاری زبان میں آسان کر دیا ہے تاکہ تم متقیوں کو خوشخبری دو
تشریح: اللہ نے نبیؐ کی زبان میں قرآن پاک کو آسان کیا تاکہ بات دل میں اُتر جائے، نہ کہ زبان سے الجھ جائے۔
3. سورہ القمر (چار بار)
اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
تشریح: اللہ نے آسانی کو بار بار دہرایا تاکہ ہم سیکھیں کہ سادگی میں ہی اثر ہے۔
احادیث سے رہنمائی
1. صحیح بخاری: 127
لوگوں سے وہی باتیں کرو جو وہ سمجھ سکیں۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے؟
تشریح: مشکل باتیں لوگ رد کر دیتے ہیں۔ دین کی بات ہو یا دنیا کی، سادگی مؤثر ذریعہ ہے۔
2. صحیح بخاری: 3568
رسولؐ بات کرتے تو آہستہ اور واضح انداز میں کرتے، اگر کوئی گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔
تشریح: نبیؐ کی گفتگو صاف، آرام دہ اور سمجھنے میں آسان ہوتی۔ یہی ہمارے لیے نمونہ ہے۔
اسلام ہمیں صرف حق بولنے کا نہیں، بلکہ حق کو مؤثر انداز میں پہنچانے کا درس دیتا ہے۔ لہٰذا چاہے دینی بات ہو یا دنیاوی، مشکل زبان سے نہیں، آسان اور سادہ انداز سے اثر پیدا ہوتا ہے۔
:مصنفہ کا تعارف
ڈاکٹر نایاب ہاشمی اسلامی مصنفہ ہیں اور اصلاحی و دینی موضوعات پر تحریریں لکھتی ہیں۔
0 تبصرے