زنجیروں میں قید حوصلہ — ڈاکٹر عافیہ صدیقی
تحریر: ڈاکٹر نایاب ہاشمی
ایک سوال جو ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام محض ایک فرد کا نام نہیں، یہ امتِ مسلمہ کے ضمیر پر لگا وہ سوال ہے جو برسوں سے جواب مانگ رہا ہے۔ یہ کہانی ایک تعلیم یافتہ، باوقار اور باحیا مسلمان خاتون کی ہے جو علم کی بلندیوں سے قید و بند کی اندھیری کوٹھڑیوں تک پہنچا دی گئی۔ یہ ایک زندہ ضمیر کی داستان ہے۔
تعلیم، خاندان اور اچانک گمشدگی
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نیورو سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے والی ان چند پاکستانی مسلمان خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے عالمی سطح کی معروف امریکی یونیورسٹی سے اعلیٰ سائنسی تعلیم حاصل کی۔ وہ ایک تعلیم یافتہ محقق، ایک ماں، ایک بیٹی اور ایک باوقار مسلمان عورت تھیں۔ مارچ 2003 میں وہ اپنے تین کم سن بچوں کے ساتھ کراچی سے اچانک لاپتہ ہو گئیں۔ برسوں تک ان کا کوئی واضح سراغ نہ مل سکا، خاندان دربدر رہا، عدالتیں خاموش رہیں اور ریاستی اداروں کی طرف سے کوئی شفاف جواب سامنے نہ آ سکا۔
گرفتاری اور سزا کا معاملہ
2008 میں افغانستان کے شہر غزنی سے اچانک خبر آئی کہ ایک “نامعلوم خاتون” امریکی فوج کی تحویل میں ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیں۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے امریکی فوجیوں پر بندوق سے فائر کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اس مقدمے میں نہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش کیا گیا، نہ کوئی گولی، اور نہ ہی کسی زخمی فوجی کا وجود سامنے آیا۔ اس کے باوجود انہیں امریکہ منتقل کر دیا گیا اور 2010 میں 86 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
قید کی اذیتیں اور صبر
اس سے بھی زیادہ روح فرسا حقیقت وہ اذیتیں ہیں جن کا تذکرہ خود ڈاکٹر عافیہ نے عدالت میں کیا۔ برسوں تک بگرام جیل میں انہیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، حتیٰ کہ ان کی چادر اور حیا تک محفوظ نہ رہی۔ ایک باپردہ مسلمان عورت کے لیے یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ شدید روحانی کرب تھا۔ ان کے بچوں کا کیا بنا، آج تک مکمل سچ سامنے نہیں آ سکا۔ ایک بیٹا برسوں بعد ملا، ایک بچی کا اب تک کوئی علم نہیں، جبکہ ایک کم سن بچے کی پراسرار موت کی خبریں سامنے آئیں۔
لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنے ظلم کے باوجود وہ ٹوٹیں نہیں۔ عدالت میں انہوں نے کہا:
“میں ایک مسلمان ہوں، اور میں اپنے رب پر یقین رکھتی ہوں۔”
یہ جملہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اصل طاقت جسم کی نہیں، ایمان کی ہوتی ہے۔ زنجیریں ہاتھوں میں ہو سکتی ہیں، حوصلے میں نہیں۔
انصاف کا سوال
جس وقت وہ لاپتہ ہوئیں، پاکستان امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی تھا، اور اسی دور میں ان کا اچانک غائب ہونا آج تک ایک کھلا سوال ہے۔ اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ انہوں نے امریکی فوجیوں پر بندوق تانی کی، تب بھی نہ کوئی فوجی زخمی ہوا، نہ کوئی ہلاک، اور نہ ہی کوئی ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیا گیا۔ ایسے میں 86 سال قید کی سزا انصاف کے اصولوں سے زیادہ ایک سیاسی مثال محسوس ہوتی ہے۔ قانون جرم کے تناسب سے سزا دیتا ہے، انتقام کے لیے نہیں۔
ایک علامت — امید کی
آج وہ محض ایک قیدی نہیں بلکہ ایک علامت ہیں۔ مظلوموں کی، خاموش ماؤں کی، اور اس امت کی جو جاگنا چاہتی ہے مگر جس کی نیند طویل ہو چکی ہے۔ ان کی رہائی صرف ایک عورت کی رہائی نہیں ہوگی، یہ انصاف کی جیت ہوگی۔
دعا
اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، ان پر ہونے والے ہر ظلم کا حساب لے، ان کی تکلیفوں کو ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنا، اور انہیں باعزت رہائی نصیب فرما۔ ان کے بچوں کو صبر، سکون اور آپس میں ملاپ عطا فرما۔ اے ربِ کائنات! ہمیں اتنی ہمت عطا کر کہ ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو سکیں، کم از کم دعا کی صورت ہی سہی۔
وہ زندہ ہیں، اور جب تک وہ قید میں ہیں، ہم سب کسی نا کسی درجے میں قید ہیں۔
:ڈاکٹر نایاب ہاشمی کی مزید تحاریر

0 تبصرے