اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ اور فلسطین کا درد | ڈاکٹر نایاب ہاشمی

اسرائیلی مصنوعات اور فلسطین کا درد

تحریر: ڈاکٹر نایاب ہاشمی

اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ اور فلسطین کا درد اردو کالم

اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے ضمیر، یادداشت اور مستقل مزاجی کا امتحان ہے۔ جب غزہ میں ظلم کی خبریں آتی ہیں تو پوری دنیا میں فلسطین سے یکجہتی کی لہر اٹھتی ہے، مگر اکثر یہ جذبہ وقتی ثابت ہوتا ہے۔

وقتی جذبات اور بائیکاٹ کی حقیقت

چند دن بعد حالات معمول پر آتے ہی لوگ دوبارہ انہی برانڈز کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا فلسطین کی حمایت محض وقتی ردِعمل ہے یا ایک مستقل ذمہ داری؟

معاشی جنگ اور اسرائیلی حکمتِ عملی

آج کی دنیا میں جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معاشی طاقت سے بھی لڑی جاتی ہے۔ کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں براہِ راست یا بالواسطہ اسرائیلی معیشت کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی بائیکاٹ ایک مؤثر ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔

بائیکاٹ کو کمزور کرنے والے عوامل

اکثر کہا جاتا ہے کہ کمپنیاں سیاست سے الگ ہیں یا فرنچائز کا تعلق نہیں ہوتا۔ ایسے دلائل عام لوگوں کو کنفیوز کرتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بائیکاٹ کی مہم آہستہ آہستہ کمزور پڑ جاتی ہے۔

عادت بدلنا اصل چیلنج

مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ عادت کی تبدیلی ہے۔ ہماری خریداری دراصل ہمارا موقف ظاہر کرتی ہے۔ جہاں ہم پیسہ خرچ کرتے ہیں، وہیں ہماری ترجیح واضح ہوتی ہے۔

بائیکاٹ کی طاقت اور اثر

جب ہم کسی ایسی پروڈکٹ سے انکار کرتے ہیں جو ظلم کو تقویت دے سکتی ہو تو ہم یہ پیغام دیتے ہیں کہ انسانیت معیشت سے زیادہ اہم ہے۔ یہی چھوٹے اقدامات اجتماعی طور پر بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

تاریخی مثال اور سبق

دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ عالمی بائیکاٹ نے کئی بڑے سیاسی اور سماجی نظام بدلنے میں کردار ادا کیا۔ اسی لیے فلسطین کے لیے بھی اسے ایک مؤثر پرامن جدوجہد سمجھا جاتا ہے۔

نتیجہ: مستقل ذمہ داری

فلسطین کی آزادی تک یہ جدوجہد ختم نہیں ہوتی۔ ہمیں خود کو بھی یاد دلانا ہوگا اور دوسروں کو بھی کہ بائیکاٹ صرف وقتی ردِعمل نہیں بلکہ مستقل ذمہ داری ہے۔ ورنہ ہماری خاموش خرید کسی اور مظلوم کی چیخ  بن سکتی ہے۔

:ڈاکٹر نایاب ہاشمی کی مزید تحاریر

زنجیروں میں قید حوصلہ — ڈاکٹر عافیہ صدیقی

شاتم رسول ﷺ کی مذمت | شاعری

آسان زبان میں بات کرنا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے