سیزرین سیکشن — مجبوری یا انتخاب؟ | بقلم حرا امجد بنت اخلاق

سیزرین سیکشن — مجبوری یا انتخاب؟

تحریر: حرا امجد بنت اخلاق

حمل کے دوران سیزرین سیکشن اور طبی ضرورت پر مبنی تحریر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

!السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

یہ سچ ہے کہ میں انتخابی سیزرین سیکشن کے سخت خلاف ہوں۔

پڑھیے میرا مضمون - آج کی ماں 

مگر یہ بھی سچ ہے کہ ڈاکٹر اور حالات کے سامنے انسان مجبور ہو جاتا ہے۔

اگر ایک ماہر ڈاکٹر آپ سے کہہ رہی ہے کہ بچے کی پیدائش آپریشن کے بغیر ممکن نہیں یا قدرتی طریقۂ پیدائش میں خطرہ ہے۔ ماں یا بچے کسی کو بھی نقصان ہو سکتا ہے۔ تو ایسے میں اگر آپ کو سو میں سے نوے فیصد بھی لگ رہا ہے کہ ڈاکٹر پیسے بنانے کے لیے یہ بات کر رہی ہے پھر بھی آپ کو گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔ کیونکہ آپ خود ایک ماہر ڈاکٹر نہیں ہیں۔

حاملہ خاتون کے لیے اہم طبی حقیقت - ایک سبق آموز واقعہ

کیا میں آپ کو اس حوالے سے ایک ڈاکٹر اور مریض کا واقعہ سناؤں؟

ایک حاملہ عورت جسے لیبر ہینز آ رہی تھیں مگر بچے کی پیدائش نہیں ہو رہی تھی، ڈاکٹر نے خاتون کے شوہر کو بتایا کہ چونکہ بچے کے سر پر سوجن ہے (swelling)، اوزار بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا، اس لیے قدرتی طریقے سے بچے کی پیدائش ممکن نہیں، فوری آپریشن کرنا پڑے گا۔

مگر شوہر نے اچھا خاصا ہنگاما کیا کہ تم لوگ صرف پیسے بنانے کے لیے یہ بات کر رہے ہو، میں کسی دائی کے پاس لے جاؤں گا۔ وہ شخص اپنی بیوی کو وہاں سے لے گیا۔

کچھ عرصے بعد اسی ڈاکٹر کے کلینک میں وہی مریضہ۔۔

ڈاکٹر کے پوچھنے پر اس نے اپنی کہانی بتائی ،

اس نے بتایا کہ اس کا شوہر اسے کسی دائی کے پاس لے گیا اس دائی نے اس پر دو دن ہر قسم کا دیسی حربہ استعمال کر لیا مگر بچے کی پیدائش نہ ہو سکی، آخر میں دائی نے شوہر سے کہا کہ اس کی پسلیوں کو زور سے دباؤ ، شوہر نے ایسا کیا تو بچہ تو ہو گیا مگر مردہ۔

بات صرف یہیں ختم نہیں ہوئی، کچھ ہفتے گزرے تو اس عورت سے ناگوار قسم کی بو آنا شروع ہو گئی، یہ بو اتنی ناگوار تھی کہ شوہر اور ساس نے اس کے پاس بیٹھنے سے انکار کر دیا، اس بو کی وجہ یہ تھی کہ اس کا پیشاب اور پاخانے پر اختیار نہیں رہا تھا،

مسلسل اخراج کی وجہ سے شدید جسمانی اور سماجی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

طبی زبان میں ایسی پیچیدگی کو Obstetric Fistula کہا جاتا ہے، جو طویل اور مشکل زچگی کے باعث ہو سکتی ہے۔

مزید معلومات کے لیے: World Health Organization (WHO)

اس واقعے کو سنانے کا مقصد یہ ہے کہ میں اختیاری آپریشن (selective operation) کے خلاف ہوں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میں آج کل کی تمام نا تجربہ کار دائیوں پر بھروسہ کرتی ہوں۔

ہاں غیر ضروری آپریشن اکثر مالی مفاد کی وجہ سے کیے جاتے ہیں، لیکن سب معاملات میں ایسا نہیں ہوتا۔ اب یہ بات ہم سو فیصد نہیں جان سکتے کہ آیا ڈاکٹر سیزرین سیکشن پیسوں کے لیے کر رہی ہے یا واقعی اس کی ضرورت ہے۔

خلاصہ یہی ہے کہ حاملہ خواتین اپنی طرف سے پوری کوشش کریں مگر اس کے بعد معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں، اور ڈاکٹرز کو چاہیے کہ انسانی جان کو ہر چیز سے مقدم رکھیں۔

جزاک اللہ خیرا کثیرا


:حرا امجد بنت اخلاق کی مزید تحاریر

تربیت بیٹوں کی

کیا تربیت صرف بچوں کی ہوتی ہے؟

نیٹ ورک مارکیٹنگ حرام کیسے ہے؟

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے