اسرائیلی مصنوعات اور فلسطین کا درد
تحریر: ڈاکٹر نایاب ہاشمی
اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ، یہ معاملہ صرف ایک ملک یا چند کمپنیوں تک محدود نہیں، یہ ہمارے رویّوں، یادداشت اور مستقل مزاجی کا امتحان ہے۔ جب غزہ میں بمباری ہوتی ہے، معصوم بچے شہید ہوتے ہیں، اور تصویریں دل ہلا دیتی ہیں، تو ہم سب کے اندر ایک درد جاگتا ہے۔ اسی وقت بائیکاٹ کی آواز اٹھتی ہے، سوشل میڈیا پر پوسٹس آتی ہیں، فہرستیں شیئر ہوتی ہیں، اور لوگ جذباتی ہو کر کہتے ہیں کہ اب ہم اسرائیلی مصنوعات نہیں خریدیں گے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ جذبہ اکثر وقتی ثابت ہوتا ہے۔
وقتی جذبات اور بائیکاٹ کی حقیقت
کچھ دن، کچھ ہفتے گزرتے ہیں، حالات معمول پر آتے ہیں، خبریں بدل جاتی ہیں، اور آہستہ آہستہ وہی لوگ پھر سے KFC، McDonald’s یا دیگر اسرائیل نواز برانڈز کے باہر نظر آنے لگتے ہیں۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ بائیکاٹ کی مہم ٹھنڈی پڑ جاتی ہے، لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، اور فلسطین ایک بار پھر صرف ایک خبر بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں خود سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ ایک دن کی جنگ ہے؟ یا یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جو فلسطین کی آزادی تک جاری رہنی چاہیے؟
معاشی جنگ اور اسرائیلی حکمتِ عملی
اسرائیل براہِ راست صرف ہتھیاروں سے جنگ نہیں لڑتا، بلکہ معاشی جنگ بھی اس کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اسرائیلی یا اسرائیل نواز ملٹی نیشنل کمپنیاں اس کی معیشت کو مضبوط کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں بظاہر فوڈ چین، کاسمیٹکس، ٹیکنالوجی یا ڈرنکس کے نام پر سامنے آتی ہیں، مگر ان کے منافع کا ایک حصہ اسرائیلی ریاست، اس کی فوج، یا ان اداروں تک پہنچتا ہے جو فلسطینیوں کے خلاف جارحیت میں براہِ راست یا بالواسطہ ملوث ہیں۔۔
بائیکاٹ کو کمزور کرنے والے عوامل
بائیکاٹ کی آواز کو کمزور کرنے کے لیے مختلف طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ کمپنیاں سیاست سے الگ ہیں،
(مہوش خولہ راؤ کا سیاست اور دین اسلام سے متعلق مضمون پڑھیے)
کبھی کہا جاتا ہے کہ فرنچائز کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں، اور کبھی بائیکاٹ کرنے والوں کو جذباتی یا غیر عملی کہا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام آدمی کنفیوز ہو جاتا ہے اور آسان راستہ چن لیتا ہے۔ یعنی وہی روٹین، وہی کھانا، وہی برانڈز۔
عادت بدلنا اصل چیلنج
یہاں مسئلہ علم کا نہیں، عادت کا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بائیکاٹ کوئی وقتی غصہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ فلسطین کی جدوجہد ایک دن، ایک ہفتے یا ایک ٹرینڈ کی محتاج نہیں۔ یہ ایک لمبی جنگ ہے، اور اس جنگ میں ہمارا کردار صرف دعاؤں یا پوسٹس تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری خریداری بھی ایک موقف ہے۔ ہم جہاں پیسہ خرچ کرتے ہیں، وہیں ہماری ترجیح نظر آتی ہے۔
بائیکاٹ کی طاقت اور اثر
تاریخی مثال اور سبق
بائیکاٹ وہ ہتھیار ہے جو کمزور کے ہاتھ میں بھی طاقت بن جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خاتمے میں عالمی بائیکاٹ نے اہم کردار ادا کیا، اور آج فلسطین کے لیے بھی یہی راستہ سب سے زیادہ بامعنی دکھائی دیتا ہے۔
نتیجہ: مستقل ذمہ داری
آخر میں بس اتنا کہنا ہے کہ فلسطین کی آزادی تک یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ بائیکاٹ کی مہم کو بار بار زندہ کرنا ہوگا، خود کو بھی اور دوسروں کو بھی یاد دلانا ہوگا۔ ورنہ خطرہ یہی ہے کہ ہم پھر بھول جائیں گے، اور ہماری خاموش خرید کسی اور معصوم کی چیخ بن جائے گی۔
مزید معلومات
فلسطین کے حوالے سے اسلامی ممالک کی سرکاری پوزیشن اور بیانات کے لیے Organisation of Islamic Cooperation کی سرکاری ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔


1 Comments
ماشاءالله بہت خوب مضمون
ReplyDelete